ریل پیل
معنی
١ - کثرت، بہتات، زیادتی۔ "اس وقت نہ بڑے تجارتی مرکز تھے نہ دولت کی ریل پیل تھی۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٠٩ ) ٢ - دھکم دھکا، بھیڑ، مجمع۔ "شور و غل، ریل پیل، دھکم دھکا عام تھی۔" ( ١٩٦٨ء، ماں جی، ٦٤ )
اشتقاق
پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ریل' کے ساتھ سنسکرت زبان سے ماخوذ 'پیلنا' کا حاصل مصدر 'پیل' ملانے سے مرکب کیا گیا ہے جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٣ء میں "کلیات منیر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کثرت، بہتات، زیادتی۔ "اس وقت نہ بڑے تجارتی مرکز تھے نہ دولت کی ریل پیل تھی۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٢٠٩ ) ٢ - دھکم دھکا، بھیڑ، مجمع۔ "شور و غل، ریل پیل، دھکم دھکا عام تھی۔" ( ١٩٦٨ء، ماں جی، ٦٤ )